23 مارچ 2013 - 19:30

يورپي يونين کے شعبہ خارجہ پاليسي کي سربراہ کيتھرين اشٹون نے کہا ہے کہ وہ آئندہ اپريل ميں قزاقستان کے شہر الماتي ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے ساتھ ہونےوالے مذاکرات کے تعلق سے پراميد ہيں -

ابنا: کيتھرين اشٹون نے يورپي يونين کے و‌زرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد ڈبلين ميں پريس کانفرنس ميں کہا کہ اٹھارہ مارچ کو استنبول ميں ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کے ماہرين کے اجلاس ميں صرف قانوني اور تکنيکي  پہلوؤں پر بات ہوئي -  انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات  ميں کسي بھي طرح کا کوئي سياسي معاملہ زير بحث نہيں آيا –کيتھرين اشٹون نے کہا کہ آلماتي ميں ايک بار پھر ايران اور پانچ جمع ايک گروپ کا اجلاس ہوگا اور ہم سمجھتے ہيں کہ ان مذاکرات ميں ہم تفصيل کے ساتھ اپني تجاويز تہران کو پيش کرسکيں گے اور ساتھ ہي يہ بھي  اميد کرتے ہيں کہ ايران بھي ہماري تجاويز کا مثبت جواب دے گا - انہوں نے کہا کہ انہيں جو تجربہ ہوا ہے اس سے يہ ثابت ہوچکا ہے کہ ايران کے ايٹمي معاملے کو سفارتکاري کے ذريعے ہي حل کيا جاسکتا ہے –واضح رہے کہ  اسلامي جمہوريہ ايران نے بارہا اپنے اس اصولي موقف کا اعادہ کيا ہے کہ معاملے کو بات چيت کے ذريعے ہي حل کيا جانا چاہئے -  تہران کا کہنا ہے کہ  پابنديوں اور دھمکيوں سے کوئي نتيجہ نہيں نکلنے والا ہے –اسلامي جمہوريہ ايران کا موقف ہے کہ اس کا ايٹمي پروگرام پرامن مقاصد کے لئے ہے اور اين پي ٹي معاہدے کے تحت پرامن مقاصد کے لئے ايٹمي ٹکنالوجي تک رسائي اس کا مسلمہ حق ہے جس کو مغرب کو تسليم کرنا چاہئے............./169